84

بھارت آبی دہشت گردی کے موڈ میں

نذیر احمد سندھو(تھینک ٹینک)
nazeeersindhou340@gmail.com
بھارت کے وزیر آبی وسائل نے بنگلور میں اپنی تقریر میں عندیہ دیا ہے حکومت پاکستان کے دریاؤں کا پانی روک کر پنجاب راجستھان اور ہریانہ کو پانی فراہم کریگا ۔آئندہ بجٹ میں ڈیمز بنانے کے لئے رقوم مختص کی جائیں گی ۔پنجاب کے الیکشن میں وزیر اعظم مودی کہہ چکے ہیں خون اور پانی اکھٹے نہیں بہہ سکتے ۔وزیر موصوف کا بیان مودی کے بیان کی کڑی معلوم ہوتا ہے ۔گجرات میں دریائے نرمادا پر سردار ڈیم کا افتتاح بھی بھارت کر چکا جس کی تختی 56سال قبل سردار ولبھ بھائی پٹیل نے نصب کی تھی جسے وزیر اعظم نہرو نے بوجوہ ملتوی کر دیا تھا ۔سردار ڈیم کا شمار دنیا کے بلند ترین اور بڑے ڈیمز میں ہوتا ہے۔گو سردار ڈیم اور دریائے نرمادا سے پاکستانی پانیوں کا کوئی تعلق نہیں مگر یہ بھارت کے ڈیمز بنانے کے ارادوں کی غمازی کرتا ہے۔
ایک امریکی دانشور جو پانیوں پر اتھارٹی مانا جاتا ہے نے بھارت کو مشورہ دیا ہے وہ پاکستانی دریاؤں کا پانی روک کر ایک گولی چلائے بغیرپاکستان کو ختم کر سکتا ہے ۔بد قسمتی ملاحظہ فرمائیے 70سال سے ہماری خارجہ پالیسی کا محور امریکہ دغا دے کر ہمارے دشمن کو ہماری بربادیوں کے مشورے دے رہا ہے ۔ بھارت امریکہ رومانس زوروں پر ہے ۔خطے میں بھارت افغانستان اتحاد جس میں ایرانی پراکسی کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا،پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی امریکی سازش ہے ۔ پاکستان کے اندر ایم آئی 6سی آئی اے اور را نے ہماری طاقتور حکمران ایلیٹ کے ذاتی مفادات کے تحفظ کے عوض قلعے کے اندر سے دروازے کھولنے کااہتمام کر رکھا ہے ۔تقسیم ہند کے وقت پانیوں کی تقسیم کا معاملہ نہ تو زیر بحث آیا اور نہ ہی اسکا کوئی حل تجویز کیا گیا ۔بھارت تو بلندیوں پر تھا ڈھلان میں تو ہم تھے ،سوچنا تو ہمیں تھا مگر ہماری سول بیورو کریسی اور جاگیردار سیاستدانوں کے پاس ایسے اہم مسائل کیلئے وقت ہی نہ تھا ۔انہیں تو مشرقی پاکستان کی اکثریت کا دکھ کھائے جا رہا تھا ۔ آئین کا نفاذکسی طور انہیں قبول نہیں تھا ۔آئین کی تحریر اور تکمیل کی راہ میں روڑے اٹکانا جاگیرداروں کا معمول بن چکا تھا ۔ لیاقت علیخان بنگالیوں کی مدد سے بہر طورآئین کی تکمیل کی طرف بڑھتے گئے تو جاگیردار، بیوروکریسی گھٹھ جوڑنے ان پر فوکس کر لیا ۔ لیاقت علیخان ہندوستان میں بہت بڑے جاگیردار تھے۔ پاکستان میں اپنی جاگیر الاٹ نہ کروا کر عملاً وہ جاگیردار dynasty سے باہر ہو گئے تھے۔ جاگیرداروں کو واضح خطرے کی گھنٹی سنائی دے رہی تھی ۔انہیں یقین ہو چکا تھا لیاقت علیخان نے اپنی جاگیر الاٹ نہیں کروائی وہ ہماری جاگیریں بھی چھین لے گا ۔ بھارت میں نہرو کی مثال سامنے تھے جس نے بڑی بڑی راجدھانیاں ختم کر دی تھیں لہذا انہیں ایک سازش کے تحت شہید کر دیا گیا۔ خان صاحب کی شہادت کے بعد اقتدار کی دال چھتروں میں بٹنے لگی اور پانی جیسے سنجیدہ مسلئے پر سوچنے کے لئے کسی کے پاس وقت نہیں تھا ۔
امریکی اٹامک انرجی کے سابق سربراہ مسٹرڈیوڈ lilienthalکو بر صغیر میں بہت دلچسپی تھی وہ امریکی رسالے colliersکے لئے بر صغیر خصوصاً کشمیر گلگت بلتستان کی خوبصورتی اور جنگوں سے متعلقہ مضامین لکھنا چاہتے تھے مگر بر صغیر میں قیام کے دوران انہیں پانی سے متعلقہ معاملات نے بہت زیادہ متاثر کیا ۔جاری حالات میں انہیں پاکستان کی بقا مشکوک نظر آئی۔ مسٹر ڈیوڈ نے پاکستانی حکمرانوں سے ملاقاتیں کیں مگر انہیں کہیں سے حوصلہ افزاپیغام نہ ملا ۔1958میں ایوب خاں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ۔ ڈیوڈ ایوب خان کو ملے ، جنرل نے پوری سنجیدگی سے مسلئے کو سمجھا اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا ۔ ڈیوڈ نے پانی کے مسلئے پر مذکورہ رسالے میں مضامین لکھے اور ورلڈ بنک کو تجویز دی پاکستان بھارت دونوں کو اپنے پراجیکٹس کیلئے قرضوں کی ضرورت ہے ورلڈ بنک اپنا پریشر استعما ل کرکے یہ گھمبیر مسلۂ حل کروائے ورنہ پانی پر متوقع جنگوں کے نتیجے میں بنک کی سرمایہ کاری اور قرضے بھی ڈوب جائیں گے ۔ بنک نے رضامندی ظاہر کی مگر بھارت بضد تھا یہ پاک بھارت دو طرفہ مسلۂ ہے ہمیں کسی کی ثالثی قبول نہیں ۔ورلڈ بنک نے بھارت کو سمجھایا ہم فریق نہیں اور نہ ہی ثالث ہیں ہم آپ دونوں کے مددگار ہیں ۔بھارت رضامند ہو گیا اور مجوزہ سندھ طاس معاہدے پر صدر ایوب خان اور بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے دستخط کئے ۔سندھ طاس معاہدے کے مطابق 6دریا ؤں میں سے تین راوی ستلج اور بیاس کے پانیوں پر بھارت کا حق تسلیم کر لیا گیا اور چناب جہلم اور سندھ کے پانی پاکستان کے حصے میں آئے۔ بھارت کے اصرار پر معاہدے میں ایک کلاز شامل کر لی گئی جس کے مطابق بھارت بند باندھ کر پاکستانی دریاؤں کے پانی سے بجلی بنا سکتا ہے البتہ ڈیمز بھرنے کے بعد بھارت کو پانی واپس اسی دریا میں دینا ہو گا ۔یہ شرط پاکستان کو کسی طور نہیں ماننی چاہیے تھی ۔ ایوب خان فوجی تھے اور ڈیوڈ کو معاہدے کی تکمیل سے دلچسپی تھی یہ پاکستانی ٹیکنوکریٹ کی ذمہداری تھی وہ اس شرط کو تسلیم نہ کرتے ۔ بھارت نے پہلی بار اپنے پنجے بگلیار ڈیم پر دکھائے مگر پاکستان کے احتجاج اور ورلڈ بنک کی مداخلت سے یہ مسلۂ حل ہو گیا مگر پاکستانی نکتہ نظر سے آئیڈیل حل نہیں تھا ۔ 2006 میں بھارت نے کشن گنگا ڈیم دریائے نیلم پر بنانے کا اعلان کیا دریائے کشن گنگا جہلم کا حصہ ہے جس کا نام وادی نیلم میں دریاے نیلم پکارا جاتا ہے یہ پاکستان کے حصے کا پانی ہے ۔ صدر مشرف نے دریائے نیلم پر نیلم پاور پراجیکٹ بنانے کا اعلان کیا اور بھارتی ڈیم کے ڈیزائن پر اعتراض لگا دیا ۔ بھارت کا موئقف تھا وہ واپسی پانی جہلم میں دے گا مگر پاکستان کا موئقف پانی نیلم میں چاہیے ہمارا ترجیحی حق ہے ہم بھی ڈیم بنا رہے ہیں ۔وادی نیلم کے حسن کو برقرار رکھنے پرندوں کی ضرورت اور ماحول کو آلودگی سے محفوظ بنانے کے لئے پانی دریائے نیلم میں ہی دیا جائے۔ سندھ طاس معاہدے کے مطابق بھارت پانی دریائے نیلم میں دینے کا پابند ہے ۔دونوں اطراف سے مذاکرات ہوتے رہے مگر بیل منڈھے نہ چڑھی ۔2010میں پاکستان ایشو کو ورلڈ بنک کی ثالثی کورٹ میں لے گیا جس نے بھارت کو ڈیم بنانے سے روک دیا ۔زرداری حکومت کی غیر سنجیدگی کا یہ عالم کمشنر واٹر اور صدر کے مشیر کمال ماجد اللہ کے زیر سرپرستی آبی تنظیم کے درمیان وکیل مقرر کرنے پر اختلاف سامنے آ گیا ۔بھاری فیسوں کا دھندہ جس میں سب کی حصہ داری۔مقدمہ کی کامیابی کے لئے پانیوں پر بین الاقوامی قوانین اور ماحولیاتی آلودگی کی ماہر ٹیم کی ضرورت تھی مگر حکومت نے میرٹ کی بجائے من پسند وکلاء کی ٹیم مقرر کی جن کی اہلیت پر ابتداء سے ہی سوالیہ نشان تھا ۔ نا اہلی کی تصدیق عدالتی فیصلے سے ہو گئی ۔مضبوط موئقف کے با وجود پاکستان کیس ہار گیا مگر ہار کو جیت کی بریکنگ نیوز کے طور پیش کیا ۔ تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد پتہ چلا بھارت کے حق میں consent decreeجاری ہوئی اور بھارت کوکنسٹرکشن کی اجازت مل گئی فیصلے کے مطابق دریائے نیلم میں پانی کا بہاؤ فی سیکنڈ 9کیوسک بھارت جاری رہنے دیگا باقی سے ڈیم بھر کر پانی واپس دریاے جہلم میں دے گا ۔سندھ طاس معاہدے کے علاوہ ماحولیاتی آلودگی کے قوانین کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ۔2001کی خشک سالی جس میں بہت سے درخت سوکھ گئے تھے پرندوں کی پیاس کی وجہ سے اموات ہوئی تھیں وادی کا حسن ماند پڑ گیا تھا دریائے نیلم میں پانی کا بہاؤ 11کیوسک فی سیکنڈ تھا پھر پاکستان کو نیلم پاور پراجیکٹ کے لئے الگ پانی درکار تھا اور پاکستان کا اولین استحقاق تھا مگر نا لائق ٹیم نے اپنا مو ئقف مضبوط انداز میں پیش کرنے کی بجائے رضا مندی سے ڈگری بھارت کے حق میں جاری کروا دی ۔ثالثی عدالت نے پاکستان سے ڈیٹا مانگا کہ وادی کے کسانوں کو زراعت کے لئے کتنا پانی درکار ہے۔ دس دن کی مہلت لینے کے با وجود ڈیٹا پیش نہ کیا گیا ۔21فروری2013 کا فیصلہ جو conset decreپر مبنی تھا کے خلاف اپیل تو نہیں ہوسکتی تھی مگر Revisionکی جا سکتی تھی جس کے خلاف یو این او میں اپیل کی گنجائش بھی نکل سکتی تھی۔ 2013میں الیکشن کے نتیجے میں زرداری حکومت کے خاتمے کے بعدمیاں نواز شریف کی حکومت سے revisionکی امیدتھی مگر انہوں نے بھی بھارت کی خوشنودی کیلئے کوئی قدم نہ اٹھایا ۔سندھ طاس معاہدہ میں بجلی پیدا کرنے کیلئے پاکستانی دریاؤں کے پانی کے استعمال کو کسی طور نہیں ماننا چاہیے تھا یہ کام ٹیکنو کریٹس کا تھا جنھوں نے معاہدے کی باریکیوں پر توجہ دینے کے لئے سوچ بچار نہ کی جس کا فائدہ آج بھارت اٹھا رہا ہے ۔ مذکورہ کللاز کے علاوہ سندھ طاس معاہدہ بہترین ہے مگر بھارتی بد نیتی نے اسے متنازعہ بنا رکھا ہے ۔دنیا میں 200دریا ہیں جو
مختلف ممالک سے گذرتے ہیں اور مختلف ممالک کے درمیان 228معاہدے ہیں مگر زیادہ اختلافات بھارت کی وجہ سے اسی خطے میں ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں